Thursday, 15 September 2022

گھر سے نکلنا جب مری تقدیر ہو گیا

 گھر سے نکلنا جب مِری تقدیر ہو گیا

اک شخص میرے پاؤں کی زنجیر ہو گیا

اک حرف میرے نام سے دیوارِ شہر پر

یہ کیا ہوا کہ رات میں تحریر ہو گیا

میں اس کو دیکھتا ہی رہا اس میں ڈوب کر

وہ تھا کہ میرے سامنے تصویر ہو گیا

وہ خواب جس پہ تِیرہ شبی کا گمان تھا

وہ خواب آفتاب کی تعبیر ہو گیا

میں تو زباں پہ لایا نہیں تیرا نام بھی

کیوں عشق میرا باعثِ تشہیر ہو گیا

آغاز اس نے جو بھی کہا میرے واسطے

وہ کیوں مِرے کلام کی تفسیر ہو گیا؟


آغاز برنی

No comments:

Post a Comment