بے خیالی ہی میں جو میں نے پکارا سُورج
پھر ہوا یوں، کہ سَوا نیزے پہ آیا سورج
رات کے پچھلے پہر کوئی دعا مانگی تھی
یخ زدہ گھر کے کسی کونے سے اُبھرا سورج
ناؤ کاغذ کی جو پانی میں اُتاری میں نے
پھر دھنک نے بھی لی انگڑائی نہایا سورج
میں تعاقب میں کسی چاند کے ہوں صدیوں سے
اور اُسی روز سے کرنے لگا پیچھا سورج
صبحِ اُمید تو اُس شوخ نے ہے نام رکھا
تو کہیں سے بھی نظر کیوں نہیں آتا سورج
چاند نے سوچ کے اک آہ بھری ٹھنڈی سی
اس بھری دنیا میں ہے کتنا اکیلا سورج
اک طرف چاند ستارے، یہ خُنک رات، ہوا
اک طرف ریت، یہ صحرا، یہ چمکتا سورج
رخسانہ جبین
No comments:
Post a Comment