تیرا مجنوں تیری خاطر خاک میں مل جائے گا
کون تیری مانگ میں سیندور بھرنے آئے گا
صیاد کا احسان اب یہ بھی تو مانا جائے گا
میرا گھر ہی آج سے میرا قفس کہلائے گا
تیرا مجنوں مٹ گیا تو یاد رکھ دشتِ جنوں
خار زاروں میں نہ کوئی آبلہ پا جائے گا
جرمِ وفا کی ذیل میں ہے زہر پینے کا رواج
چلتا آیا ہے ازل سے، اور چلتا جائے گا
بر سرِ عالم ہوا اقرارِ ناکردہ گناہ
یہ ظلم تھا، یہ جبر تھا ایسے ہی لکھا جائے گا
تیرا قیسِ ناتواں اب یوں قفس میں بس گیا
در جو وا ہو بھی گیا تو صید اڑ نہ پائے گا
تیرا پاگل تیرا رُسوا تیری حُرمت کے لیے
تمغے رُسوائی کے سینے پر سجاتا جائے گا
میں تو مِٹنے کو ہوں راضی سوچ لو کہ میرے بعد
اُٹھ جائے گی خُوئے وفا، عہدِ جنوں لُٹ جائے گا
پیچ ہائے زُلفِ جاناں کب کُھلیں گے مظہری
یہ اسیرِ زُلفِ لیلیٰ کب رہائی پائے گا؟
ضیاء المظہری
No comments:
Post a Comment