Thursday, 15 September 2022

چرا کے میرے طاق سے کتاب کوئی لے گیا

 چرا کے میرے طاق سے کتاب کوئی لے گیا

مِری تمام عمر کا حساب کوئی لے گیا

یہ واقعہ ہے جب لُٹی مِرے چمن کی آبرو

لرزتی شاخ رہ گئی گلاب کوئی لے گیا

وہی تو اک ذریعۂ نجات میرے پاس تھا

مگر مِرے ضمیر کا ثواب کوئی لے گیا

سوال بن کے روبرو کھڑی ہوئی تھی زندگی

مِرا لہو نچوڑ کر جواب کوئی لے گیا

مِرے بدن میں چبھ رہی تھیں سوئیاں سی رات بھر

سحر ہوئی تو لطف اضطراب کوئی لے گیا

چھپا لیا ہے میں نے سارا درد اپنی روح میں

تسلیوں کا ظاہری نقاب کوئی لے گیا


حمید الماس

No comments:

Post a Comment