Friday, 2 April 2021

وہ ایک خواب کہ آنکھوں میں جگمگا رہا ہے

 وہ ایک خواب کہ آنکھوں میں جگمگا رہا ہے

چراغ بن کے مجھے روشنی دکھا رہا ہے

وہ صرف حق جو مِرے لب سے آشکار ہوا

سکوت دیر میں اک عمر گونجتا رہا ہے

مِرے سخن میں جو اک لو سی تھرتھراتی ہے

چراغِ شب سے مِرا بھی مکالمہ رہا ہے

مِرے لیے یہ خد و خال کی حقیقت کیا

وہ خاک ہوں کہ جسے چاک پھر بلا رہا ہے

میں سوچتا ہوں کوئی دشت کیا سمیٹے گا

وہ وحشتیں ہیں مجھے خود بھی خوف آ رہا ہے

سخن کے آئینہ خانے کو خیر ہو شہباز

زمانہ سنگ بکف ہے ادھر کو آ رہا ہے


شہباز خواجہ

No comments:

Post a Comment