نقوشِ رفتہ خجل ہو کے ڈھونڈتا رہا میں
کل آئینے میں بہت دیر بُت بنا رہا میں
نہ جانے کس کی توجہ کی آبیاری تھی
خزاں برستی رہی اور ہرا بھرا رہا میں
نکل گئی تھی مِری روح لمبے سیر کو اور
بدن میں اپنے کئی دن مَرا پڑا رہا میں
غضب کی ہونی ہے بارش، بہت تپی ہے زمیں
یہ سوچ سوچ کے اندر سے بھیگتا رہا میں
عجیب نشہ بدن کی جمالیات میں تھا
تمام عمر غریقِ مطالعہ ریا میں
اب اپنے بارے میں سوچوں گا خوب سوچوں گا
بہت زمانے کے بارے میں سوچتا رہا میں
گزر رہا تھا طلب سرسری ابھی جس سے
جب اس کو غور سے دیکھا تو دیکھتا رہا میں
خورشید طلب
No comments:
Post a Comment