Friday, 2 April 2021

درد مندوں سے نہ پوچھو کہ کدھر بیٹھ گئے

 درد مندوں سے نہ پوچھو کہ کدھر بیٹھ گئے

تیری مجلس میں غنیمت ہے جدھر بیٹھ گئے

ہے غرض دید سے یاں کام تکلف سے نہیں

خواہ اِدھر بیٹھ گئے، خواہ اُدھر بیٹھ گئے

دیکھا ہووے گا مِرے اشک کا طوفاں تم نے

لاکھ دیوار گرے، سینکڑوں گھر بیٹھ گئے

کس نظر ناز نے اس باز کو بخشی پرواز

سینکڑوں مرغِ ہوا پھاند کے پر بیٹھ گئے

کم ہے آواز تِرے کوچہ کے باشندوں کی

نالہ کرنے سے گَلے ان کے مگر بیٹھ گئے

مُفت اُٹھنے کے نہیں یار کے کوچہ سے فقیر

جب کہ بستر کو جما، کھول کمر بیٹھ گئے


شمس الدین فقیر

No comments:

Post a Comment