Thursday, 6 August 2020

فصل گل جا مرے دل سے ترا ارمان گیا

حسن جو رنگ خزاں میں ہے وہ پہچان گیا
فصلِ گل جا مِرے دل سے تِرا ارمان گیا
تُو خداوندِ محبت ہے، میں پہچان گیا
دل سا ضدی تِری نظروں کا کہا مان گیا
آئینہ خانہ سے ہوتا ہوا حیران گیا
خود فراموش ہوا جو تمہیں پہچان گیا
اب تو مے خانۂ الفت میں چلا آیا ہوں
اس سے کیا بحث، رہا یا میرا ایمان گیا
اپنے دل سے بھی چھپانے کی تھی کوشش کیا کیا
وہ مِرا حالِ محبت، جسے تُو جان گیا
ہے یہی حکم تو تعمیل کریں گے صاحب
نہ کریں گے تمہیں ہم یاد، جو دل مان گیا
چھن گیا کیف بہکتے ہوئے کم ظرفوں میں
مے کدے سے بھی گیا میں تو پریشان گیا
نہ ملا چین کسی حال میں مجبوروں کو
مسکراۓ تو ہر اک شخص برا مان گیا
اپنی رو میں جو بہائے لیے جاتا تھا ہمیں
وہ زمانہ،۔ وہ تمناؤں کا طوفان گیا
جھک کے چومی جو زمیں اسکی گلی کی ہم نے
کفر چیخا؛ کہ سنبھالو! مِرا ایمان گیا
تیلیاں خون سے تر دیکھیں قفس کی جو صبا
اپنی سوکھی ہوئی آنکھوں پہ مِرا دھیان گیا

صبا اکبر آبادی

No comments:

Post a Comment