اب دور آسماں ہے نہ دور حیات ہے
اے دردِ ہجر تُو ہی بتا کتنی رات ہے
ہر کائنات سے یہ الگ کائنات ہے
حیرت سرائے عشق میں دن ہے نہ رات ہے
کیوں انتہائے ہوش کو کہتے ہیں بے خودی
ہستی کو جس نے زلزلہ ساماں بنا دیا
وہ دل قرار پائے، مقدر کی بات ہے
توڑا ہے لامکاں کی حدوں کو بھی عشق نے
زندانِ عقل! تیری تو کیا کائنات ہے
گردوں! شرار برق دل بے قرار دیکھ
جن سے یہ تیری تاروں بھری رات رات ہے
گم ہو کے ہر جگہ ہیں زخود رفتگانِ عشق
ان کی بھی اہلِ کشف و کرامات ذات ہے
ہستی بجز، فنائے مسلسل کے کچھ نہیں
پھر کس لیے یہ فکرِ قرار و ثبات ہے
اس جانِ دوستی کے خلوصِ نہاں نہ پوچھ
جس کا ستم بھی غیرتِ صد التفات ہے
عنوان غفلتوں کے ہیں فرقت ہو یا وصال
بس فرصتِ حیات فراق، ایک رات ہے
فراق گورکھپوری
No comments:
Post a Comment