Thursday, 6 August 2020

اے درد ہجر تو ہی بتا کتنی رات ہے

اب دور آسماں ہے نہ دور حیات ہے
اے دردِ ہجر تُو ہی بتا کتنی رات ہے
ہر کائنات سے یہ الگ کائنات ہے
حیرت سرائے عشق میں دن ہے نہ رات ہے
کیوں انتہائے ہوش کو کہتے ہیں بے خودی
خورشید ہی کی آخری منزل تو رات ہے
ہستی کو جس نے زلزلہ ساماں بنا دیا
وہ دل قرار پائے، مقدر کی بات ہے
توڑا ہے لامکاں کی حدوں کو بھی عشق نے
زندانِ عقل! تیری تو کیا کائنات ہے
گردوں! شرار برق دل بے قرار دیکھ
جن سے یہ تیری تاروں بھری رات رات ہے
گم ہو کے ہر جگہ ہیں زخود رفتگانِ عشق
ان کی بھی اہلِ کشف و کرامات ذات ہے
ہستی بجز، فنائے مسلسل کے کچھ نہیں
پھر کس لیے یہ فکرِ قرار و ثبات ہے
اس جانِ دوستی کے خلوصِ نہاں نہ پوچھ
جس کا ستم بھی غیرتِ صد التفات ہے
عنوان غفلتوں کے ہیں فرقت ہو یا وصال
بس فرصتِ حیات فراق، ایک رات ہے

فراق گورکھپوری

No comments:

Post a Comment