Thursday, 6 August 2020

اب بھی کوئی بنا لے تو بگڑی نہیں ہے بات

یہ نکہتوں کی نرم روی، یہ ہوا یہ رات
یاد آ رہے ہیں عشق کے ٹوٹے تعلقات
مایوسیوں کی گود میں دم توڑتا ہے عشق
اب بھی کوئی بنا لے تو بگڑی نہیں ہے بات
اک "عمر" کٹ گئی ہے تِرے "انتظار" میں
ایسے بھی ہیں کہ کٹ نہ سکی جن سے ایک رات
ہم "اہلِ انتظار" کے آہٹ پہ "کان" تھے
ٹھنڈی ہوا تھی، غم تھا تِرا، ڈھل چلی تھی رات
یوں تو بچی بچی سی اٹھی وہ نگاہِ ناز
دنیاۓ دل میں ہو ہی گئی کوئی واردات
دریا کے مد و جزر بھی پانی کے کھیل ہیں
ہستی ہی کے کرشمے ہیں کیا موت کیا حیات

فراق گورکھپوری

No comments:

Post a Comment