Monday, 13 December 2021

کوئی وقت سکوں اے گردش ایام آ جائے

کوئی وقتِ سکوں اے گردشِ ایّام آ جائے

قفس کی صبح آ جائے، چمن کی شام آ جائے

ستا اتنا نہ اے آوارگی! ایذا پسندوں کو

تھکیں، اور تھک کے دل میں خواہشِ آرام آ جائے

دُعا کر تشنہ کامی! یہ جمودِ مے کدہ ٹُوٹے

تِری تقدیر سے گردش میں شاید جام آ جائے

نگاہوں پر کشش کی، دل پہ تہمت بیقراری کی

مقدّر اپنا اپنا، جس پہ جو الزام آ جائے

تِرے ملنے کا کیا امکان، لیکن ہم بھی انساں ہیں

کبھی ممکن ہے دل میں یہ خیالِ خام آ جائے

نیا کافر قدم رکھنے سے بُت خانے میں ڈرتا ہے

مبادا! لب پہ گھبرا کر خدا کا نام آ جائے

ابھی وہ میری چُپ کو اپنی رُسوائی بتاتے ہیں

 نہیں معلوم اِس کے بعد کیا الزام آ جائے؟

لبوں کو وقتِ آخر ذکرِ دنیا سے بچانا ہے

خدا کا ہو، تمہارا ہو، کسی کا نام آ جائے

 تجھے اے ہنسنے والے! کیا خبر ہے وسعتِ غم کی

خوشی دنیا کی زیرِ دامنِ آلام آ جائے

سکوتِ مستقل چھایا ہوا ہے اُن کی محفل میں

صبا شاید یہاں دل کا دھڑکنا کام آ جائے


صبا اکبر آبادی

No comments:

Post a Comment