اور کتنے برس
نوحہ گر
چشمِ تر دربدر
ریزہ ریزہ بدن
خاک کی بے اماں بستیوں میں جیئوں
چادرِ بے یقینی میں لپٹی ہوئی گھر بدلتی رہوں
اپنے بے گانے لوگوں کی باتیں سنوں
غیرتوں کی فصیلوں میں زندہ گھڑوں
چپ رہوں، دکھ سہوں
بولتے کیوں نہیں
اور کتنے برس
بولتے کیوں نہیں میں چارہ گرو
ختم ہوں گی کبھی یہ مِری سختیاں
میرے اطراف سے کب چھٹے گا دھواں
کب ملے گی مِری آگہی کو زباں
خونِ ناحق کی دیت ملے گی مجھے
منصبِ آدمیت کی طالب ہوں میں
مسندِ آدمیت ملے گی مجھے
کب تلک یہ اذیت ملے گی مجھے
زہر پینا پرانی روایت میری
یہ روایت، روایت ہے عادت نہیں
بے زباں مجھ کو سمجھے ہے خلقِ خدا
ناخدا برتے رختِ سفر کی طرح
اب مقدر میں رہتی ہے کتنی سزا
بولتے کیوں نہیں
اور کتنے برس
شہباز گردیزی
No comments:
Post a Comment