Monday, 13 December 2021

مرے راز داں میری آنکھوں میں دیکھو

اداکار


مِرے راز داں

میری آنکھوں میں دیکھو

بتاؤ مجھے کیا کہیں خوف ہے

کیا کہیں کوئی خواہش

مچلتی ہوئی پا برہنہ ملی

کیا مِری آنکھ کے بانکپن میں

نقاہت تو ابھری نہیں

محبت کا دھاگا جو الجھا ہوا ہے

کہیں اس کی سرخی تو

آنکھوں میں دکھتی نہیں

مِرے راز داں

میری باتوں کو سوچو بتاؤ مجھے

کیا کہیں ان میں تقدیر سے

کوئی شکوہ بھی ہے

کوئی دوغلا پن

تلفظ کی غلطی

کہیں نا مرادی کا بے وزن مصرعہ

شقاوت تنفر بھرا کوئی جملہ

اگر ایسا ہے تو بتاؤ مجھے

مِرے ڈی این اے میں

اداکار لمحوں کا پیوند ہے

مِرا فن مسلسل

ہدایات ہی کا تو پابند ہے

یہ اک آن میں

دکھ چھپانے لگے گا

ملامت زدہ یہ ریاکار چہرہ

ابھی

دفعتاً مسکرانے لگے گا


سدریٰ افضل

سدرہ افضل

No comments:

Post a Comment