Monday, 13 December 2021

کسی نے ہاتھ یوں تھاما ہوا ہے

 کسی نے ہاتھ یوں تھاما ہوا ہے

سفر کا حوصلہ پیدا ہوا ہے

نجانے رہ گیا ہے کون پیچھے

ابھی تک قافلہ ٹھہرا ہوا ہے

بہت دن ہو گئے ہیں یاد کرتے

بہت دن سے کوئی بھولا ہوا ہے

تسلی دینے والے ہونٹ چُپ ہیں

دعا کا سلسلہ ٹوٹا ہوا ہے

ہمارے زخم تو بھرتے رہیں گے

تمہارا رنگ کیوں اُترا ہوا ہے

اسے کوئی نہیں جو روک پائے

ہمیں اک بات نے روکا ہوا ہے

اسے کوئی منائے بھی تو کیسے

جو اپنے آپ سے رُوٹھا ہوا ہے

کئی پیغام ہیں اگلے برس کے

کسی نے پھول بھی بھیجا ہوا ہے


شہباز خواجہ

No comments:

Post a Comment