یہ کون سجا کر دل و دنیا مِرے آگے
لایا ہے مِرے ہاتھ کا لکھا مِرے آگے
بڑھتا ہوں میں جب عرصۂ دیروز کی جانب
بنتے ہیں مِرے نقشِ کفِ پا مِرے آگے
کیوں رات کا ملبوس نہ پہنوں کہ ابھی تک
گل رنگ ہے خورشید کا لاشہ مِرے آگے
کچھ بھی نہیں بدلا ہے سرِ شہرِ تہی خواب
اب جو تِرے آگے ہے، وہی تھا مِرے آگے
اکثر میں یونہی دیکھ رہا ہوتا ہوں احمد
اکثر کوئی منظر نہیں ہوتا مِرے آگے
احمد شہریار
No comments:
Post a Comment