Monday, 13 December 2021

سندیسوں کے ملتے ہی دل اتنا زور سے دھڑکا تھا

 سندیسوں کے ملتے ہی دل اتنا زور سے دھڑکا تھا

جیسے پار ندی کے کوئی مجھ جیسا ہی تڑپا تھا

کون ملا تھا ہم کو یارو اس قاتل سے موسم میں

جس کو دیکھ کے اس بستی میں زور سے ساون برسا تھا

دیکھ کے اس کا کِھلتا جوبن، مست ہوا بھی رک گئی تھی

اس کے سر سے جب اس کی چُنری کا پلو سرکا تھا

تازہ غزل بھی میری اس کو جان سے پیاری لگنی تھی

اس کا بھی تو قافیہ آخر لکھا میرے دل کا تھا

میرے گھر میں بھی تو اک دن جھوم کے خوشیاں ناچی تھیں

مجھ پر بھی شاہین کسی کے وصل کا بادل برسا تھا


مرتضٰی شاہین مندھرو

No comments:

Post a Comment