سندیسوں کے ملتے ہی دل اتنا زور سے دھڑکا تھا
جیسے پار ندی کے کوئی مجھ جیسا ہی تڑپا تھا
کون ملا تھا ہم کو یارو اس قاتل سے موسم میں
جس کو دیکھ کے اس بستی میں زور سے ساون برسا تھا
دیکھ کے اس کا کِھلتا جوبن، مست ہوا بھی رک گئی تھی
اس کے سر سے جب اس کی چُنری کا پلو سرکا تھا
تازہ غزل بھی میری اس کو جان سے پیاری لگنی تھی
اس کا بھی تو قافیہ آخر لکھا میرے دل کا تھا
میرے گھر میں بھی تو اک دن جھوم کے خوشیاں ناچی تھیں
مجھ پر بھی شاہین کسی کے وصل کا بادل برسا تھا
مرتضٰی شاہین مندھرو
No comments:
Post a Comment