بس اک نگاہ کو یوں تیر کرنا چاہتی ہوں
اک اجنبی کو میں تسخیر کرنا چاہتی ہوں
اسی کے نام کا چرچا کروں زمانے میں
بس اس کو پانے کی تدبیر کرنا چاہتی ہوں
وہ اس لیے بھی ضروری ہے۔ میں اسے پا کر
ادھوری ذات کی تعمیر کرناچاہتی ہوں
اسے کہو کہ میرے شہر میں قیام کرے
کہ ہمسفر نہیں، تقدیر کرنا چاہتی ہوں
میں اس کے ہاتھ پہ بیعت کروں گی اب تسلیم
اسے میں اپنے لیے پیر کرنا چاہتی ہوں
تسلیم اکرام
No comments:
Post a Comment