Friday, 18 February 2022

بس اک نگاہ کو یوں تیر کرنا چاہتی ہوں

 بس اک نگاہ کو یوں تیر کرنا چاہتی ہوں

اک اجنبی کو میں تسخیر کرنا چاہتی ہوں

اسی کے نام کا چرچا کروں زمانے میں

بس اس کو پانے کی تدبیر کرنا چاہتی ہوں

وہ اس لیے بھی ضروری ہے۔ میں اسے پا کر

ادھوری ذات کی تعمیر کرناچاہتی ہوں

اسے کہو کہ میرے شہر میں قیام کرے

کہ ہمسفر نہیں، تقدیر کرنا چاہتی ہوں

میں اس کے ہاتھ پہ بیعت کروں گی اب تسلیم

اسے میں اپنے لیے پیر کرنا چاہتی ہوں


تسلیم اکرام

No comments:

Post a Comment