Friday, 18 February 2022

زخم دل میں دکھاتے دکھاتے تھکا

زخم دل میں دکھاتے دکھاتے تھکا

درد اپنا سناتے سناتے تھکا

دی توجہ کسی نے نہ میری طرف

میں توجہ دلاتے دلاتے تھکا

زخم بھرنے میں آیا نہیں آج تک

وقت مرہم لگاتے لگاتے تھکا

آپ آئے نہ آنے کا وعدہ کیا

آپ کو میں بلاتے بلاتے تھکا

تیز جھونکے ہوا کے بجھاتے گئے

میں تو شمعیں جلاتے جلاتے تھکا

تو بنائے تو رانا بنے بات کچھ

ورنہ میں تو بناتے بناتے تھکا


رانا گنوری

No comments:

Post a Comment