زعفرانی کلام (قطعات)
ہر سمت انتشار ہے بھیا کے راج میں
ہر آدمی لاچار ہے بھیا کے راج میں
بیٹی کے ہاتھ پیلے ہوں کیسے بتائیں چونچ
ٹھپ سارا کاروبار ہے بھیا کے راج میں
٭
رعب دنیا پہ کچھ اس طرح جما لیتا ہے
اپنے قدموں میں زمانے کو جھکا لیتا ہے
جس کو دیکھا نہ کبھی ہم نے تلاوت کرتے
وہ قسم کھانے کو قرآن اٹھا لیتا ہے
٭
وہ سناتن ہو کہ اسلام یا سکھ، عیسائی
سارے مذہب نے ہمیں صرف محبت دی ہے
جھُوٹا الزام لگا کر یہ بتا دو ہم کو
ماب لنچنگ کی تمہیں کس نے اجازت دی ہے
چونچ گیاوی
No comments:
Post a Comment