Wednesday, 17 March 2021

جہاں عہد تمنا ختم ہو جائے

 جہاں عہدِ تمنا ختم ہو جائے

عذابِ جاودانی زندگی ہے

رُلاتی ہے مجھے کیوں چاندنی رات

یہی اک راز میری زندگی ہے

خلش ہو، درد ہو، کاہش ہو، کچھ ہو

فقط جینا بھی کوئی زندگی ہے

ہلاک انجام تکمیلِ تمنا

بقائے آرزو ہی زندگی سے

جگر میں ٹیس لب ہنسنے پہ مجبور

کچھ ایسی ہی ہماری زندگی ہے

وہ چاہے جس قدر بھی مختصر ہو

محبت کی جوانی زندگی ہے

امیدیں مر چکیں میں جی رہا ہوں

عجب بے اختیاری زندگی ہے

جوانی اور ہنگاموں سے خالی

یہ جینا ہے یہ کوئی زندگی ہے

گزاری تھیں خوشی کی چند گھڑیاں

انہیں کی یاد میری زندگی ہے

محبت دونوں جانب سے محبت

نہ پوچھو آہ کیسی زندگی ہے


عندلیب شادانی

No comments:

Post a Comment