Monday, 10 May 2021

وہ جو مجھ سے خفا نہیں ہوتا

 وہ جو مجھ سے خفا نہیں ہوتا

درد حد سے سوا نہیں ہوتا

میری کوشش کو جو رضا ملتی

لفظ یوں بے صدا نہیں ہوتا

ہمزباں تو بہت ملے، لیکن

کیوں کوئی ہمنوا نہیں ہوتا

ہم اگر پہلے جاگ جاتے تو

سانحہ وہ ہوا نہیں ہوتا

آگ بستی کی گر بُجھاتا تو

اس کا گھر بھی جلا نہیں ہوتا

کوئی کوشش کبھی تو کی ہوتی

تم سے کچھ بھی چھُپا نہیں ہوتا

فکر ہوتی نہیں جو روٹی کی

کوئی اپنا جُدا نہیں ہوتا


شفا کجگاؤنوی

No comments:

Post a Comment