Tuesday, 20 July 2021

میں ٹوٹ کر اسے چاہوں یہ اختیار بھی ہو

 میں ٹوٹ کر اسے چاہوں یہ اختیار بھی ہو

سمیٹ لے گا مجھے اس کا اعتبار بھی ہو

نئی رُتوں میں وہ کچھ اور بھی قریب آئے

گئی رُتوں کا سُلگتا سا انتظار بھی ہو

میں اس کے ساتھ کو ہر لمحہ معتبر جانوں

وہ ہمسفر ہے تو مجھ سا ہی بے دیار بھی ہو

مِرے خلوص کا انداز یہ بھی سچا ہے

رکھوں نہ ربط مگر دوستی شمار بھی ہو

سفر پہ نکلوں تو رسمِ سفر بدل جائے

کنارہ بڑھ کے کبھی خود ہی ہمکنار بھی ہو


فاطمہ حسن

No comments:

Post a Comment