Friday, 9 July 2021

تو مرے پاس رہے میں تری الفت میں فنا

تُو مِرے پاس رہے میں تِری الفت میں فنا

جیسے انگاروں پہ چھینٹوں سے دھواں

بنتِ مہتاب کو ہالے میں لیے

تُو فروزاں ہو مگر ساری تپش میری ہو

پھیلے افلاک میں بے سمت سفر

ساتھ میں وقت کا رہوار لیے

جس طرف موجِ تمنا کہہ دے

جستجو شوق کا پتوار لیے

گفتگو ربط کے احساس سے دور

خامشی رنجِ مکافات سے دور

چاندنی کی کبھی سرگوشی سی

پھول کے نرم لبوں کو چُومے

گردِ اندیشہ کو شبنم دھو دے

قہقہے پُھوٹیں تأمل کے بغیر

نُور اُبلے کبھی فواروں میں

اور نُقطے میں سمٹ آئے کبھی

تہ بہ تہ کھولے ردا ظُلمت کی

اپنی بے باک نگاہوں سے منور کر دے

نقطۂ وصل یہ مِٹتا ہوا دھبہ ہی سہی

ہوش بہتا ہے تو بہہ جانے دے

تُو مِرے پاس رہے میں تِری الفت میں فنا


ابرارالحسن

No comments:

Post a Comment