نشہ
مِری آنکھیں جھکی جھکی سی تھیں
تِرا انداز والہانہ تھا
تُو نے تھاما تھا مِرا آنچل جو
کس ادا سے میں نے چھڑایا تھا
بِن پئے کا نشہ، جو تیرا تھا
یا کہ شاید وہ جنوں تیرا تھا
تِرا عکس تھا میری ہتھیلی پر
کتنی وارفتگی سے تم نے جو
چُوم لیا تھا میری ہتھیلی کو
پیار بھری اس مُہر کو میں اب بھی
دیکھ لیتی ہوں نم نگاہوں سے
پیار کی بس وہ اک کہانی تھی
بس وہی تو ہی زندگانی تھی
عذرا یاسمین
No comments:
Post a Comment