Saturday, 7 August 2021

دو صدیاں کیسے بات کریں سکھیاں بن جائیں

 ہمسفری


دو صدیاں کیسے بات کریں

سکھیاں بن جائیں

ساتھ چلیں

آکاش سے پھیلی دھرتی تک

شیشے کی اک دیوار کھنچی

کیا رمز ہے کیسا لہجہ ہے

کیا خبریں ہیں کیا قصہ ہے

اب ہاتھ ہلائیں مسکائیں

سرگوشی ہو یا چلائیں

اب سر ٹکرائیں پھولوں کی سوغات لیے

کیا بات بنے

دو صدیاں کیسے بات کریں

انکار سراسر نا ممکن

اقرار مکمل بے معنی

اب سات سمندر شیشے کی دیوار سے لگ کر

جھانک رہا ہے

گھور رہا ہے

جھنجھلاہٹ کا گھٹتا بڑھتا پاگل پن


ابرارالحسن

No comments:

Post a Comment