دستِ شبنم پہ دمِ شعلہ نوائی نہ رکھو
صبح کی گود میں شب بھر کی کمائی نہ رکھو
میری یادوں کے صنم خانوں سے اٹھنے دو دھواں
میرے سینے پہ ابھی دستِ حنائی نہ رکھو
شب کو رہنے دو یوں ہی شام و سحر کا پیوند
ڈر کے ظلمات سے بنیادِ جدائی نہ رکھو
حسن بھی اپنے تقاضوں سے ہے آخر مجبور
حسن کے دوش پہ الزامِ خدائی نہ رکھو
اپنے وجدان سے بھی کام نکالو کوئی
راہبر ہی کے لیے راہنمائی نہ رکھو
اپنے زخموں کو چھپاؤ کسی عنوان صمد
رہ گزاروں میں غمِ آبلہ پائی نہ رکھو
صمد انصاری
No comments:
Post a Comment