کرو گے جان کر کیا تم مجھے انجان رہنے دو
کرو تم عقل کی باتیں مجھے نادان رہنے دو
کرو جو چاہے فنکاری ہمیں لینا ہے کیا اس سے
فرشتہ کیا کروں گا بن کر مجھے انسان رہنے دو
نہ جتلاؤ وہی باتیں جنہیں میں بھول آیا ہوں
اخوت پیار کی مجھ کو ذرا پہچان رہنے دو
نہ ٹھکراؤ کسی طور وفا کی چاندنی کو تم
کسی پیار بھرے دل کا ابھی ارمان رہنے دو
محبت ہو حلاوت ہو وفاؤں کی سخاوت ہو
کوئی ماحول ہو چاہے یہ دل ویران رہنے دو
مجھے ہے رہنا خلوت میں اور جانا جلوت میں
رہے جو جلوۂ حیرت میں سر و سامان رہنے دو
جہاں ہے روح کا مسکن گزرگاہِ حوراء ہے
یہ اپنا مستقل مدفن یوں ہی سنسان رہنے دو
قیصر مختار
No comments:
Post a Comment