Thursday, 3 March 2022

کرو گے جان کر کیا تم مجھے انجان رہنے دو

 کرو گے جان کر کیا تم مجھے انجان رہنے دو

کرو تم عقل کی باتیں مجھے نادان رہنے دو

کرو جو چاہے فنکاری ہمیں لینا ہے کیا اس سے

فرشتہ کیا کروں گا بن کر مجھے انسان رہنے دو

نہ جتلاؤ وہی باتیں جنہیں میں بھول آیا ہوں

اخوت پیار کی مجھ کو ذرا پہچان رہنے دو

نہ ٹھکراؤ کسی طور وفا کی چاندنی کو تم

کسی پیار بھرے دل کا ابھی ارمان رہنے دو

محبت ہو حلاوت ہو وفاؤں کی سخاوت ہو

کوئی ماحول ہو چاہے یہ دل ویران رہنے دو

مجھے ہے رہنا خلوت میں اور جانا جلوت میں

رہے جو جلوۂ حیرت میں سر و سامان رہنے دو

جہاں ہے روح کا مسکن گزرگاہِ حوراء ہے

یہ اپنا مستقل مدفن یوں ہی سنسان رہنے دو


قیصر مختار

No comments:

Post a Comment