Wednesday, 19 May 2021

بہت تذکرہ داستانوں میں تھا

 بہت تذکرہ داستانوں میں تھا

تو کیا وہ کہیں آسمانوں میں تھا

مجھے دیکھ کر کل وہ ہنستا رہا

تو وہ بھی مرے راز دانوں میں تھا

وہ ہر شب چباتا رہا اژدھے

سنا ہے کہ وہ نوجوانوں میں تھا

عجیب چیز ہے لمس کی تازگی

نشہ ہی نشہ دو جہانوں میں تھا

اسے زندگی مختصر ہی ملی

مگر خندۂ گل، یگانوں میں تھا

وجود اس کا دھرتی سے چمٹا رہا

دھیان اس کا اونچی اڑانوں میں تھا

پرندے فضاؤں میں پھر کھو گئے

دھواں ہی دھواں آشیانوں میں تھا


ابرار اعظمی

No comments:

Post a Comment