Monday, 11 July 2022

اس میں کیا شک ہے تجارت بادشاہی کاج ہے

 تجارت


اس میں کیا شک ہے تجارت بادشاہی کاج ہے 

غور کر کے دیکھ لو تاجر کے سر پر تاج ہے 

ہند کی تاریخ پڑھ کر ہی سبق حاصل کرو 

جو تجارت کرنے آئے تھے اب ان کا راج ہے 

زندہ رہ سکتا نہیں ہرگز تجارت کے بغیر 

ہم نے یہ مانا کہ یورپ مرکز افواج ہے 

ہر دکان اپنی جگہ ہے ایک چھوٹی سلطنت 

نفع کہتے ہیں جسے دراصل اس کا باج ہے 

جز تجارت قوم کی ملکی سیاست کچھ نہیں 

لطف آزادی اسی میں ہے یہی سوراج ہے 

زندگی کی رفعتوں سے ہے تجارت ہی مراد 

ہاں یہی بام ترقی ہے یہی معراج ہے 

مرد تاجر کو خدا کی ذات پر ہے اعتماد 

مرد چاکر ہر گھڑی اغیار کا محتاج ہے 

جب سے ہم غیروں کے آگے جھک گئے مثل کماں 

تب سے اپنا دل ستم کے تیر کا آماج ہے 

چل رہی ہیں زور سے بیکاریوں کی آندھیاں 

نوجواں کا گلستان زندگی تاراج ہے 

یہ ضروری کام کل پر ٹالنا اچھا نہیں 

بالیقیں ہم کو تجارت کی ضرورت آج ہے 

وائے حسرت کیوں تمہاری عقل پر پتھر پڑے 

جس کو تم کنکر سمجھتے ہو وہی پکھراج ہے 

پھر خریدو بیاہ کا سامان پہلے جان لو 

بس تجارت ہی عروس قومیت کا راج ہے 

وہ ہمیشہ قدر کرتے ہیں سودیشی مال کی 

قوم کا احساس ہے جن کو وطن کی لاج ہے 

خوب موتی رولتے ہیں تاجران با صفا 

فیض بازار تجارت قلزم مواج ہے 


فیض لدھیانوی

No comments:

Post a Comment