Monday, 11 July 2022

بندوق لاشے گن رہی تھی

 بندوق لاشے گِن رہی تھی


لہو آلود ہاتھوں سے ٹپکتے خون کے قطرے

صلیبوں پر کھلی بانہوں کا نوحہ تھے

کئی رِستی ہوئی آنکھیں

بدن کے چیتھڑوں اور گُنگ آوازوں کی شاہد تھیں

سڑک پر رِینگتے کچھ گولیوں کے خول 

دیواروں پہ چپکے خون کے چھینٹوں کا ماتم تھے

مِری بندوق لاشے گن رہی تھی

یہ وہی خنّاق جوکر تھی

فقط جو حکم کی رسی پہ چلتی تھی

لہو آلود وہ ننانوے

ننانوے لاشے مِری گنتی میں چبھتے تھے

اچانک

جاگتی معصوم آنکھیں میری گنتی میں اتر آئیں

مِرے منہ میں گزارش کپکپائی

سر! یہاں چھ سال کی معصوم آنکھیں سانس لیتی ہیں

مگر رسی اچانک تازیانہ بن کے میرے کان پر برسی

مِری بندوق میرے ساتھ چیخی

سو


زین عباس

No comments:

Post a Comment