Monday, 11 July 2022

گھر سے نکلے تھے آرزو کر کے

 گھر سے نکلے تھے آرزو کر کے

آج دل لائیں گے رفو کر کے

سارے خانے مہک اٹھے دل کے

تجھ کو پانے کی جستجو کر کے

تجھ کو مانگا تمام شب ہم نے

عشق سے جان و تن وضو کر کے

آج اک بار خود کو پھر دیکھو

میرا احساس چار سو کر کے

زخم دکھتے نہیں مگر اس نے

رکھ دیا دل لہو لہو کر کے


نینا سحر

No comments:

Post a Comment