ایسا سفر تھا دل کی کہانی کے پیر میں
چھالے اُبھرتے آئے جوانی کے پیر میں
خود کیوں نہ آیا دوڑ کے ابنِ علیؑ کی سمت
بتلا فُرات! موچ تھی پانی کے پیر میں؟
رک رک کے دل دھڑکتا ہے سینے میں جو مِرے
اک ڈر بندھا ہوا ہے روانی کے پیر میں
میں نے مِری اداسی کو سر پر بٹھا لیا
سو کٹ رہی ہے زندگی رانی کے پیر میں
روندا گیا ہوں مجھ کو اُٹھا لے تُو مالکا
کب تک رہوں گا دنیائے فانی کے پیر میں
جاتا ہوں باغ میں وہیں بچھڑے تھے ہم جہاں
روتا ہوں بیٹھ کر میں نشانی کے پیر میں
اسامہ سرفراز
No comments:
Post a Comment