جرم اتنا بھی وہ سنگین نہیں کر سکتا
قتل کرتا ہے تو تدفین نہیں کر سکتا
عین ممکن ہے نظر پھیر لی جائے لیکن
اس سے بڑھ کر کوئی توہین نہیں کر سکتا
تجھ سے ملتا ہوں مگر زخم چھپا لوں پہلے
تیرا محسن تجھے غمگین نہیں کر سکتا
میں محبت ہوں، محبت ہی مِرا دین، دھرم
مر تو سکتا ہوں میں نفرین نہیں کر سکتا
اپنے دامن میں مقدر کی سیاہی لے کر
تلخ شامیں کوئی رنگین نہیں کر سکتا
بات کرنے کو ترے پاس نہیں وقت، بجا
کیا تُو میسج بھی مِرا سِین نہیں کر سکتا
میں سکھاتا ہوں مظالم میں بغاوت کرنا
ظلم سہنے کی میں تلقین نہیں کر سکتا
بعد تیرے بھی خلیل اپنی حیاتی ہو دراز
ایسی خواہش کبھی مسکین نہیں کر سکتا
خلیل حسین بلوچ
No comments:
Post a Comment