Monday, 11 July 2022

جرم اتنا بھی وہ سنگین نہیں کر سکتا

 جرم اتنا بھی وہ سنگین نہیں کر سکتا

قتل کرتا ہے تو تدفین نہیں کر سکتا

عین ممکن ہے نظر پھیر لی جائے لیکن

اس سے بڑھ کر کوئی توہین نہیں کر سکتا

تجھ سے ملتا ہوں مگر زخم چھپا لوں پہلے

تیرا محسن تجھے غمگین نہیں کر سکتا

میں محبت ہوں، محبت ہی مِرا دین، دھرم

مر تو سکتا ہوں میں نفرین نہیں کر سکتا

اپنے دامن میں مقدر کی سیاہی لے کر

تلخ شامیں کوئی رنگین نہیں کر سکتا

بات کرنے کو ترے پاس نہیں وقت، بجا

کیا تُو میسج بھی مِرا سِین نہیں کر سکتا

میں سکھاتا ہوں مظالم میں بغاوت کرنا

ظلم سہنے کی میں تلقین نہیں کر سکتا

بعد تیرے بھی خلیل اپنی حیاتی ہو دراز

ایسی خواہش کبھی مسکین نہیں کر سکتا


خلیل حسین بلوچ

No comments:

Post a Comment