حشرِ کشمیر
کشمیر میں جو کفر نے پھر وار کیا ہے
غازی نے بھی اب سر پہ کفن باندھ لیا ہے
پیشانئ ملت پہ اب آن کے چمکا
وہ خون جو کشمیر کے چہرے پہ بہا ہے
دنیا کی محبت کے دِیے سارے بجھے ہیں
تیز اتنی وہاں غیرتِ دِینی کی ہوا ہے
کِھلتے ہی چلے جاتے ہیں گُلہائے وفا واں
کشمیر میں پہنچی جو مدینے کی صبا ہے
تارے نہیں یہ خونِ شہیداں کے ہیں قطرے
پھولوں کے بدن پر بھی لہو رنگ قبا ہے
خالی تو نہیں غازی کا اُبھرا ہوا سینہ
اے اہلِ نظر! شوقِ شہادت سے بھرا ہے
ہو کُفر مقابل تو ہے فولاد کی مانند
اک اور ہی مٹی سے مسلمان بنا ہے
کر دے گا بھسم قوتِ باطل کا ذخیرہ
جو شعلہ مجاہد کے عزائم میں جلا ہے
غازی جونہی جاں دیتا ہے مِل جاتی ہے جنت
کیا پیاری یہ اللہ کی رحمت کی ادا ہے
رکھی ہے شہیدِ رہِ حق کی جہاں میّت
تعظیم کا واں سجدہ فرشتوں نے کیا ہے
ظاہر میں شہادت کا لہو چہرے پہ چسپاں
یہ اصل میں فردوس کے پھولوں سے ڈھکا ہے
جو رَو ترے بھائی کے لہو کی ہے زمیں پر
خوش بخت بہن! وہ تِری گل پوش رِدا ہے
پیدا ہے جو عکس اس پہ تِرے چاند کے خوں کا
اے ماں! تِرے چہرے پہ نیا نُور سجا ہے
مجمع ہے شہیدوں کا جہاں، روزِ قیامت
رحمان کی رحمت کا وہاں سایہ گھٹا ہے
آزادی کی جنت کی جزا جس میں ملے گی
کشمیر کی وادی میں وہی حشر بپا ہے
لالۂ صحرائی
چوہدری محمد صادق
No comments:
Post a Comment