تو دیکھ لینا
سنہری کرنوں سے جگمگاتی ہوئی منڈیروں پہ بیٹھ کر جب
کوئی پری وش نہ گنگنائے
کوئی پرندہ نہ چہچہائے
کوئی پپیہا نہ گیت گائے
تو دیکھ لینا
کوئی درندہ حسین تتلی کے پر اکھاڑے گلا دبائے
گلوں کی پژمردہ پتیوں کو
دھویں کے بادل اچھالتے ہوں
حنا کے رنگوں میں جھلملاتی
ہر ایک دلہن، ہر ایک مریم، ہر ایک سیتا
وہ آصفہ ہو کہ نربھیا ہو کہ کوئی گڑیا
وجود کے کرب آگہی سے
حیات کے جبر بے بسی سے
نہ جیت پائے
تو دیکھ لینا
یہ دیکھ لینا
کہ بند کمروں کے
سُونے سُونے سے طاقچوں میں
سجی ہوئی ہیں جو کچھ کتابیں
لرز رہی ہیں
وہ امن نامے، وہ عہد نامے
اصول و دستور کے صحیفے
وہ ضابطے امن وآشتی کے
ضمانتوں کے سبھی نوشتے
حسین سپنے برابری کے
غرور کثرت کے زعم بے جا کی ٹھوکروں میں پڑے ہوئے ہیں
افق سے اٹھتے ہوئے بگولوں سے سرخ آندھی پنپ رہی ہے
یہ تاج والے، خراج والے
یہ کل کے طوفاں سے آنکھ موندے سے آج والے
انا کی ضد پر اڑے ہوئے ہیں
تو روزن ابر سے ستارہ کوئی افق پر جو جگمگائے
تو دیکھ لینا
کہیں نشیمن اجڑ رہے ہوں
ستم کے طوفان اٹھ رہے ہوں
گلے عدالت کے گھٹ رہے ہوں
سزا سے بےخوف چیل کوے کسی کبوتر کو نوچتے ہوں
لہو میں انصاف کے سنے ہوں
وہ ہاتھ
تھی جن کی ذمہ داری نظام گلشن کی پاسداری
وہ دامن عدل پھاڑتے ہوں
رخ عدالت کو نوچتے ہوں
ہری زمینوں پہ سرخ شبنم پڑی ہوئی ہو
دَیا کی دیوی، ستم کی چوکھٹ پہ سرجھکائے کھڑی ہوئی ہو
پھر ایسی صورت میں کوئی آکر تمہیں وفا کا سبق پڑھائے
تو دیکھ لینا
سرفراز بزمی
No comments:
Post a Comment