Tuesday, 17 November 2020

تو دیکھ لینا

 تو دیکھ لینا


سنہری کرنوں سے جگمگاتی ہوئی منڈیروں پہ بیٹھ کر جب

کوئی پری وش نہ گنگنائے

کوئی پرندہ نہ چہچہائے

کوئی پپیہا نہ گیت گائے

تو دیکھ لینا


کوئی درندہ حسین تتلی کے پر اکھاڑے گلا دبائے

گلوں کی پژمردہ پتیوں کو

دھویں کے بادل اچھالتے ہوں

حنا کے رنگوں میں جھلملاتی

ہر ایک دلہن، ہر ایک مریم، ہر ایک سیتا

وہ آصفہ ہو کہ نربھیا ہو کہ کوئی گڑیا

وجود کے کرب آگہی سے

حیات کے جبر بے بسی سے

نہ جیت پائے

تو دیکھ لینا


یہ دیکھ لینا

کہ بند کمروں کے

سُونے سُونے سے طاقچوں میں

سجی ہوئی ہیں جو کچھ کتابیں

لرز رہی ہیں

وہ امن نامے، وہ عہد نامے

اصول و دستور کے صحیفے

وہ ضابطے امن وآشتی کے

ضمانتوں کے سبھی نوشتے

حسین سپنے برابری کے

غرور کثرت کے زعم بے جا کی ٹھوکروں میں پڑے ہوئے ہیں

افق سے اٹھتے ہوئے بگولوں سے سرخ آندھی پنپ رہی ہے

یہ تاج والے، خراج والے

یہ کل کے طوفاں سے آنکھ موندے سے آج والے

انا کی ضد پر اڑے ہوئے ہیں

تو روزن ابر سے ستارہ کوئی افق پر جو جگمگائے

تو دیکھ لینا


کہیں نشیمن اجڑ رہے ہوں

ستم کے طوفان اٹھ رہے ہوں

گلے عدالت کے گھٹ رہے ہوں

سزا سے بےخوف چیل کوے کسی کبوتر کو نوچتے ہوں

لہو میں انصاف کے سنے ہوں

وہ ہاتھ

تھی جن کی ذمہ داری نظام گلشن کی پاسداری

وہ دامن عدل پھاڑتے ہوں

رخ عدالت کو نوچتے ہوں

ہری زمینوں پہ سرخ شبنم پڑی ہوئی ہو

دَیا کی دیوی، ستم کی چوکھٹ پہ سرجھکائے کھڑی ہوئی ہو

پھر ایسی صورت میں کوئی آکر تمہیں وفا کا سبق پڑھائے

تو دیکھ لینا


سرفراز بزمی

No comments:

Post a Comment