Tuesday, 17 November 2020

زندگی روز بناتی ہے بہانے کیا کیا

 زندگی روز بناتی ہے بہانے کیا کیا

جانے رہتے ہیں ابھی کھیل دکھانے کیا کیا

صرف آنکھوں کی نمی ہی تو نہیں مظہر غم

کچھ تبسم بھی جتا دیتے ہیں جانے کیا کیا

کھٹکیں اس آنکھ میں تو دھڑکیں کبھی اس دل میں

در بدر ہو کے بھی اپنے ہیں ٹھکانے کیا کیا

بول پڑتا تو مری بات مری ہی رہتی

خامشی نے ہیں دئیے سب کو فسانے کیا کیا

شہر میں رنگ جما گاؤں میں فصلیں اجڑیں

حشر اٹھایا بنا موسم کی گھٹا نے کیا کیا

خواب و امید کا حق، آہ کا فریاد کا حق

تجھ پہ وار آئے ہیں یہ تیرے دِوانے کیا کیا


اجمل صدیقی

No comments:

Post a Comment