Tuesday, 17 November 2020

کیا ہوا کے ہم کسی بھی رام پر نہیں گئے

 کیا ہوا کے ہم کسی بھی رام پر نہیں گئے

ہم کسی طرح کسی غلام پر نہیں گئے

رات پھر خیال میں ہی جاگ کر گزار دی

آج پھر ترے لیے ہی کام پر نہیں گئے

ہم تمہاری تربیت کو دیکھ کر ہوئے ہیں خوش

ہم تمہارے سرسری سلام پر نہیں گئے

ہم پلٹ کے آ گئے تھے دشت سے کسی طرح

خاص بن سکے نہیں تو عام پر نہیں گئے

خود کو بیچ کر تمہیں خریدنا پڑا ہمیں

تم ہمیں پسند تھے سو دام پر نہیں گئے

ہم نے داد شعر پر ہی دی ہے آج تک شفیق

ہم کبھی بھی شاعروں کے نام پر نہیں گئے


شفیق عطاری

No comments:

Post a Comment