کیا ہوا کے ہم کسی بھی رام پر نہیں گئے
ہم کسی طرح کسی غلام پر نہیں گئے
رات پھر خیال میں ہی جاگ کر گزار دی
آج پھر ترے لیے ہی کام پر نہیں گئے
ہم تمہاری تربیت کو دیکھ کر ہوئے ہیں خوش
ہم تمہارے سرسری سلام پر نہیں گئے
ہم پلٹ کے آ گئے تھے دشت سے کسی طرح
خاص بن سکے نہیں تو عام پر نہیں گئے
خود کو بیچ کر تمہیں خریدنا پڑا ہمیں
تم ہمیں پسند تھے سو دام پر نہیں گئے
ہم نے داد شعر پر ہی دی ہے آج تک شفیق
ہم کبھی بھی شاعروں کے نام پر نہیں گئے
شفیق عطاری
No comments:
Post a Comment