ہوتے نہیں ہیں درہم و دینار میرے پاس
دو چار بیٹھتے ہیں مگر یار میرے پاس
میں وہ بنا چکا ہوں جسے پوجتے ہیں لوگ
اس سے بڑا ہو کیا بھلا شہکار میرے پاس
واقف ہیں سنگ و خشت نظریات سے مرے
اگتی نہیں ہے کوئی بھی دیوار میرے پاس
مجھ کو جو رد کرے وہ خبر مل نہیں رہی
رکھے ہوئے ہیں برسوں کے اخبار میرے پاس
ترجیح اپنی اپنی ہے تہذیب اک سہی
رسمیں تمہارے پاس ہیں تہوار میرے پاس
ایسا نہ ہو کہ اک بھی سلامت نہ رہ سکے
اپنے خدا نہ لانا خبردار میرے پاس
دشمن کی جیت ہے یا مری فتح ہے شعیب
دستار اس کے پاس ہے پندار میرے پاس
شعیب کیانی
No comments:
Post a Comment