Wednesday, 17 March 2021

اپنے ٹھنڈے ہاتھوں کو

ٹھنڈے ہاتھ


 اپنے ٹھنڈے ہاتھوں کو

اپنے ٹھنڈے ہاتھوں میں

کب سے لے کر بیٹھا ہوں

سانسوں سے گرماتا ہوں

تم سے ہی تو سیکھا تھا

پچھلے سال ہی سردی میں

میرے ٹھنڈے ہاتھوں کو

اپنے تپتے ہاتھوں میں

ایسے ہی تو پکڑا تھا

تم نے بھی تو سانسوں سے

ایسے ہی گرمایا تھا

اب پھر کیوں ہاتھ نہیں تپتے؟


شعیب کیانی

No comments:

Post a Comment