ٹھنڈے ہاتھ
اپنے ٹھنڈے ہاتھوں کو
اپنے ٹھنڈے ہاتھوں میں
کب سے لے کر بیٹھا ہوں
سانسوں سے گرماتا ہوں
تم سے ہی تو سیکھا تھا
پچھلے سال ہی سردی میں
میرے ٹھنڈے ہاتھوں کو
اپنے تپتے ہاتھوں میں
ایسے ہی تو پکڑا تھا
تم نے بھی تو سانسوں سے
ایسے ہی گرمایا تھا
اب پھر کیوں ہاتھ نہیں تپتے؟
شعیب کیانی
No comments:
Post a Comment