Wednesday, 17 March 2021

ہر کسی سے بچ کے چلنا چاہیے

 ہر کسی سے بچ کے چلنا چاہیے

ہر قدم پر ہی سنبھلنا چاہیے

زندگی کا لطف لینا ہے اگر

بچے جیسا ہی مچلنا چاہیے

ہے اداسی اب مِری حد سے سوا

صحن میں اک پھول کھلنا چاہیے

دُور تک ہے اب اندھیرا ہو گیا

اب دِیا کوئی تو جلنا چاہیے

ہو گئی بے رونقی ہر جا ہی گل

خشک موسم بھی بدلنا چاہیے


کوکی گل

No comments:

Post a Comment