ہر کسی سے بچ کے چلنا چاہیے
ہر قدم پر ہی سنبھلنا چاہیے
زندگی کا لطف لینا ہے اگر
بچے جیسا ہی مچلنا چاہیے
ہے اداسی اب مِری حد سے سوا
صحن میں اک پھول کھلنا چاہیے
دُور تک ہے اب اندھیرا ہو گیا
اب دِیا کوئی تو جلنا چاہیے
ہو گئی بے رونقی ہر جا ہی گل
خشک موسم بھی بدلنا چاہیے
کوکی گل
No comments:
Post a Comment