ناکامئ حیات کا حاصل کوئی نہیں
حدِ نگاہ لگتا ہے منزل کوئی نہیں
جس طرح میری کشتئ حسرت ہوئی ہے غرق
اس طرح ڈوبتا لبِ ساحل کوئی نہیں
وحشت کی انجمن میں ہوئی تیرگی تمام
پرچھائیوں کے درد کا حاصل کوئی نہیں
اے خالقِ حیات اے مختارِ بحر و بر
کیا موجِ اضطراب کا ساحل کوئی نہیں
جب سیکڑوں ثبوت ہوں لاشوں کے ارد گرد
پھر کیسے ہو یقین کہ قاتل کوئی نہیں
بیعت میں کس کے ہاتھ پہ ریشم کروں بتا
بزمِ سخن میں مرشدِ کامل کوئی نہیں
ریشما ریشم زیدی
No comments:
Post a Comment