Tuesday, 15 March 2022

شر کی باتوں میں تمازت کا نشاں ہو کہ نہ ہو

 شر کی باتوں میں تمازت کا نشاں ہو کہ نہ ہو 

آگ لگتی ہے تو سینے میں دھواں ہو کہ نہ ہو 

شوق کو اپنے ذرا تیز قدم ہی رکھنا 

تھامنے ہاتھ کبھی باد رواں ہو کہ نہ ہو 

سیل کے غیظ سے لرزاں ہے تصور کا بدن 

بہتے پانی کے تکلم سے گماں ہو کہ نہ ہو 

دل کے خانے میں کشش خوب ملی ہے روشن 

اس کی محفل کا سماں رشک جناں ہو کہ نہ ہو 

درد مندی کی فضا ہم تو کریں گے قائم 

صحن دل دار لیے عکس فغاں ہو کہ نہ ہو 

اپنی پلکوں پہ چلو آج نمی کچھ بھر لیں 

شبنمی حسن میں تر پھر سے جہاں ہو کہ نہ ہو 

مجھ کو موجود تو ہر موڑ پہ وہ لگتا ہے 

چاند تاروں کی نگارش سے عیاں ہو کہ نہ ہو 

سوچ رہتی ہے عقیدت سے شرابور سدا 

نرم لہجے میں دعا ورد زباں ہو کہ نہ ہو 

میں تو مشکوک نہیں اس کی وفا سے جعفر

ایک موہوم اشارے میں بھی ہاں ہو کہ نہ ہو 


جعفر ساہنی

No comments:

Post a Comment