مناجات
اتر رہی ہے فصیلوں سے روشنی کی پھوار
میں بڑھ رہا ہوں بڑی خامشی سے تیری سمت
نہ کوئی دھوپ نہ چھاؤں نہ فکر رستے کی
کہ یوں تو آتا نہیں کوئی زندگی کی سمت
کوئی دریچہ نہ در ہے کہ تو نظر آئے
کبھی کبھی تو کوئی راستہ نہیں ملتا
کبھی کبھی تو فقط ایک آس ہوتی ہے
"خدا سے مانگ لے کوئی تو کیا نہیں ملتا"
درونِ ذات مگر کوئی آگ جلتی ہے
جو بجھ بھی جائے تو اس کا دھواں نہیں جاتا
نجانے کتنے ہی خدشات مجھ کو لاحق ہیں
'کہاں ہو جانے ابھی وہ، کہاں نہیں جاتا'
تجھے تو خیر ابھی فکر ہی نہیں کوئی
مگر جو فکر مجھے روز کھائے جاتی ہے
خدا کسی کو کبھی بے اماں نہ ہونے دے
مگر یہ زندگی ہر اک کو آزماتی ہے
سو تجھ سے آن ملوں گا کبھی میں وقتِ صبح
جو باقی رات ہے تو تیرگی سے بچتی رہے
ہر ایک سمت تجھے روشنی میسر ہو
خدا کرے تو برے آدمی سے بچتی رہے
حنان حانی
No comments:
Post a Comment