Tuesday, 15 March 2022

اتر رہی ہے فصیلوں سے روشنی کی پھوار

 مناجات


اتر رہی ہے فصیلوں سے روشنی کی پھوار

میں بڑھ رہا ہوں بڑی خامشی سے تیری سمت

نہ کوئی دھوپ نہ چھاؤں نہ فکر رستے کی

کہ یوں تو آتا نہیں کوئی زندگی کی سمت

کوئی دریچہ نہ در ہے کہ تو نظر آئے

کبھی کبھی تو کوئی راستہ نہیں ملتا

کبھی کبھی تو فقط ایک آس ہوتی ہے

"خدا سے مانگ لے کوئی تو کیا نہیں ملتا"

درونِ ذات مگر کوئی آگ جلتی ہے

جو بجھ بھی جائے تو اس کا دھواں نہیں جاتا

نجانے کتنے ہی خدشات مجھ کو لاحق ہیں

'کہاں ہو جانے ابھی وہ، کہاں نہیں جاتا'

تجھے تو خیر ابھی فکر ہی نہیں کوئی 

مگر جو فکر مجھے روز کھائے جاتی ہے

خدا کسی کو کبھی بے اماں نہ ہونے دے

مگر یہ زندگی ہر اک کو آزماتی ہے

سو تجھ سے آن ملوں گا کبھی میں وقتِ صبح

جو باقی رات ہے تو تیرگی سے بچتی رہے

ہر ایک سمت تجھے روشنی میسر ہو

خدا کرے تو برے آدمی سے بچتی رہے


حنان حانی

No comments:

Post a Comment