باب تحریر مکافاتِ جنوں تھا، یوں تھا
سوزِ دل درجۂ ایقان و سکوں تھا، یوں تھا
رات تا دیر لبِ بام رہے اشک رواں
قصۂ گریۂ مہتابِ زبوں تھا، یوں تھا
پاؤں بھی کاٹ دئیے حلقۂ زنجیر کے ساتھ
وائے الفت کہ مِرا شوق فزوں تھا، یوں تھا
پھر نظر آیا شبِ تار جو محمل کا وجود
خواب تھا یا کہ مِرا جذبِ بروں تھا یوں تھا
آج ہیں اہلِ ہنر اپنے ظواہر کے رقیب
میری تجدید کے رستے میں دروں تھا یوں تھا
عشق نے قصرِ علی نام لکھا تھا گھر پر
جس کے اطراف محبت کا فسوں تھا یوں تھا
علی مزمل
No comments:
Post a Comment