طوفانی لمس
وقت ہے زوروں پر
جس میں
لاکھوں طوفانوں کی
تُندی بھی ہے
ہجر کی شب کی کُندی بھی ہے
یہ شب ڈھلتی بھی تو نہیں ہے
فرِج میں رکھی برف پگھلتی بھی تو نہیں ہے
اس زوروں پر وقت رہا تو
جتنے گھر ہیں
ڈھہ جائیں گے
جتنے کھنڈر ہیں
وقت کی رو میں بہہ جائیں گے
وقت اگرچہ زوروں پر ہے
پھر بھی
لاکھوں طوفانوں کی تُندی میں
ویرانی کا پھول کہیں پر کِھلا نہیں ہے
شاخ کا سب سے سُوکھا پتا ہِلا نہیں ہے
احمد شہریار
No comments:
Post a Comment