Wednesday, 4 August 2021

طوفانی لمس وقت ہے زوروں پر

 طوفانی لمس


وقت ہے زوروں پر 

جس میں

لاکھوں طوفانوں کی

تُندی بھی ہے

ہجر کی شب کی کُندی بھی ہے

یہ شب ڈھلتی بھی تو نہیں ہے

فرِج میں رکھی برف پگھلتی بھی تو نہیں ہے

اس زوروں پر وقت رہا تو 

جتنے گھر ہیں

ڈھہ جائیں گے 

جتنے کھنڈر ہیں

وقت کی رو میں بہہ جائیں گے 

وقت اگرچہ زوروں پر ہے

پھر بھی 

لاکھوں طوفانوں کی تُندی میں 

ویرانی کا پھول کہیں پر کِھلا نہیں ہے

شاخ کا سب سے سُوکھا پتا ہِلا نہیں ہے


احمد شہریار

No comments:

Post a Comment