Wednesday, 4 August 2021

اندر کا سکوت کہہ رہا ہے

 اندر کا سکوت کہہ رہا ہے

مٹی کا مکان بہہ رہا ہے 

شبنم کے عمل سے گل تھا لرزاں 

سورج کا عتاب سہہ رہا ہے 

بستر میں کھلا کہ تھا اکہرا 

وہ جسم جو تہہ بہ تہہ رہا ہے 

پتھر کو نچوڑنے سے حاصل 

ہر چند ندی میں رہ رہا ہے 

آئینہ پگھل چکا ہے شاہد

ساکت ہوں میں عکس بہہ رہا ہے 


شاہد کبیر

No comments:

Post a Comment