Friday, 11 September 2020

وہی ہے حال میرا جو زیاں ہونے سے پہلے تھا

وہی ہے حال میرا، جو زیاں ہونے سے پہلے تھا
وہی ہے غم جو میرے بے نشاں ہونے سے پہلے تھا
دھڑک کر سہہ لیا لیکن، بتانا بھی ضروری ہے
تمہیں کیسے پتا میں دل، زباں ہونے سے پہلے تھا
تمہارے در پہ آ بیٹھا، تمہارے پاؤں بھی پکڑے
میں ایسے فقر کا عادی، یہاں ہونے سے پہلے تھا
رہی ہے دشت سے یاری، رہا دریا سے اوجھل ہی
میں پانی دوست ایسا بد گماں ہونے سے پہلے تھا
پرانے دوست جب ملتے ہیں، تو پہچان لیتے ہیں
مری آنکھوں میں دکھ شاید عیاں ہونے سے پہلے تھا
سہل تو ہو نہیں سکتا، کسی کا روگ لے لینا
میں خاصا خوش تمہارا رازداں ہونے سے پہلے تھا
مقدر نے مِرے ریزوں کو تارے کر دیا باقی
میں اک بے مول پتھر، کہکشاں ہونے سے پہلے تھا

وجاہت باقی

No comments:

Post a Comment