Friday, 11 September 2020

فسانہ اب کوئی انجام پانا چاہتا ہے

فسانہ اب کوئی انجام پانا چاہتا ہے
تعلق ٹوٹنے کو اک بہانہ چاہتا ہے
جہاں اک شخص بھی ملتا نہیں ہے چاہنے سے
وہاں یہ دل ہتھیلی پر زمانہ چاہتا ہے
مجھے سمجھا رہی ہے آنکھ کی تحریر اس کی
وہ آدھے راستے سے لوٹ جانا چاہتا ہے
یہ لازم ہے کہ آنکھیں دان کر دے عشق کو وہ
جو اپنے خواب کی تعبیر پانا چاہتا ہے
بہت اکتا گیا ہے بے سکونی سے وہ اپنی
سمندر جھیل کے نزدیک آنا چاہتا ہے
وہ مجھ کو آزماتا ہی رہا ہے زندگی بھر
مگر  یہ دل اب اس کو آزمانا چاہتا ہے
اسے بھی زندگی  کرنی پڑے کی میر جیسی
سخن سے گر کوئی رشتہ نبھانا چاہتا ہے

حمیرا راحت

No comments:

Post a Comment