Sunday, 6 September 2020

کرب تاریکی میں تاروں کی بہار

کربِ تاریکی میں تاروں کی بہار
کچھ تو جگنو بھی کریں گے یلغار
وقت نے پیڑ پہ "پت جھڑ" لکھا
پیڑ نے پالی ہے رگ رگ میں بہار
راہ کیوں بھول گئی ہے برکھا
اے مِرے پیاسے پکھیرو، ملہار
لفظ تھک ہار کے منہ تکتے ہیں
آہ بن جاتی اپنا اظہار

مظفر عازم

No comments:

Post a Comment