جنگل رحمتِ باراں کو ترستے ہیں ہمارے
بادل بحر کی گہرائیوں کو ہو گئے پیارے
اب کے آگ برستی ہے ہوا کوہ و دمن پر
اب کے تشنگئ سرو و سمن کس کو پکارے
یاں اس جوئے خراماں کو خزاں چاٹ رہی ہے
کس کے درپئے آزار شیاطین کی شہ پر
کس کی رفعتِ افلاک سے ٹوٹے ہیں ستارے
اب کیا خارِ بیاباں بھی کرے کارِ نمایاں
سوکھے آبلہ پائے جہاں گرد کے دھارے
پوچھوں تجھ سے اے امکانِ کرامات کہیں پر
کوئی زندہ ہے تعذیب تمنا کے سہارے
مظفر عازم
No comments:
Post a Comment